An Accident (A fail story)

An Accident (A fail story),Every other person knows when an accident happens, how it happens and why it happens. According to a survey, 1.35 million people die in accidents every year, of which 75% are young people under the age of 25.

This situation is not encouraging if we look at Pakistan. In the year 2019, about 11 thousand accidents were reported in which 5932 thousand people lost their lives. In terms of population, Punjab is bigger than the province and more than other provinces. Accidents were reported 4823 in Sindh 972 in K PK 4337 in Baluchistan 409 and in Islamabad 238.An Accident (A fail story)

http://An Accident (A fail story)

These statistics are taken from the Pakistan Bureau of Statistics. . There are many accidents that are not reported but leave a lot behind. Accidents are caused by someone’s negligence and can affect many lives. We keep hearing that there was an accident in such and such a place, so many people have died and we soon forget that this is also human nature.An Accident (A fail story)

http://An Accident (A fail story)

On the other hand, if we look for the cause of accidents, we will find many. And many of these reasons are fine to some extent, but there are many more that we can potentially avoid .

An Accident (A fail story)

A few days ago, a 19-year-old of the hafiz e Quran and the only brother of four sisters came under the truck in accident. . His head was completely crushed. About 200 people were gathered there. They were all watching. An ambulance came and took the body away.

An Accident (A fail story)

I stayed there and watched it all. Ten minutes later at the same place I saw another young man riding a motorbike in the back. I saw him crossing the road with out safety roles. Some distance away was the home of the young man who died,An Accident (A fail story)

Arriving there, I could see the scene of Qiyamat-e-Sughra. Why don’t you come? he was a only brother of four sisters. The support of old parents was the apple of my eye. The whole neighborhood was gathered. who knew what fate was deciding, the ambulance was stopped in front of the gate, the body wrapped in a sheet was being taken out.An Accident (A fail story)

The mother had already in shock and the condition of the sisters was no different. Hardly anyone could describe the pain of that time beyond describing the condition of the father, he was lost as if in these last years of his life a broken condition was crying from within but looking absolutely lifeless, an endless The mourning of the life that was to come had taken him to the grave. If I could hear how life is going now, maybe no one would go on the road again,An Accident (A fail story)

We know how accidents leave their deep impressions. The walls of destiny have been written. We know, but God has also told us caution, just as God had told Adam and Eve that the fruit of this tree. Don’t eat, accidents are a part of our lives, there are many lives behind an accident, the purpose of telling the story was to make you all realize that after an accident, the family suffers for ages, so be careful. That accidents will be significantly reduced,An Accident (A fail story)

Those who love you more than you have a right to life, so take care of them and protect them from the grief of a lifetime with a little caution. May God be with us all, Amen and Amen

also read:Nabiyon Ke Qissay Urdu By Ameer Jaan

Read in urdu:An Accident (A fail story)

حادثہ کب ہوتا ہے کیسے ہوتا ہے کیوں ہوتا ہے اس بات سے ہر دوسرا انسان آگاہ ہے ۔ ایک سروے کے مطابق ہر سال 1.35 ملین لوگ حادثات میں اپنی جان کی بازی ہر جاتے ہیں جن میں 75 فی صد نوجوان 25 سال سے کم عمر کے ہوتے ہیں اور اگر یہ صورت حال پاکستان دیکھی جائے تو کوئی حوصلہ افزا نہیں ہے سال 2019 میں 11 ہزار کے قریب حادثات رپورٹ ہوئے جن میں 5932 ہزار لوگوں نے اپنی جان گنوا دی ،آبادی کے لحاظ سے پنجاب صوبہ سے بڑا ہے اور یہاں باقی صوبوں کی نسبت زیادہ حادثات رپورٹ ہوئے 4823 سندھ میں 972 کے پی کے میں 4337 بلوچستان میں 409 اور اسلام آباد میں 238 یہ اعدادوشمار پاکستان بیورآف سٹیٹ سے لیا گیا ہے یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ یہ وہ حادثات ہیں جو کسی نہ کسی طرح رپورٹ ہوتے ہیں بہت سے ایسے حادثات جو رپورٹ نہ ہوتے لیکن اپنی پچھئے بہت کچھ چھوڑ جاتے ہیں۔ حادثہ کسی اک کی لاپرواہی کی وجہ سے واقع ہوتا ہے اور بہت ساری زندگیاں پر اثر انداز ہو ۔ ہم لوگ سنتے رہتے ہیں فلاں جگہ حادثہ ہوا اتنا انسان فوت ہو گئے اور جلد بھول بھی جاتے ہیں یہ انسانی فطرت بھی ہے۔ دوسری طرف ہم حادثات کی وجہ تلاش کریں تو بہت ساری ملیں گی کوئی حکومت کو گالی دے رہا ہو گا تو کوئی گاڑی بنانے والے کو تو کوئی کسے ۔ اور ان میں بہت ساری وجہ کچھ حد تک ٹھیک بھی ہوتی ہیں لیکن اس کے علاوہ بھی بہت ساری ایسی چیز ہیں جن سے ہم ممکنہ طور پر بچ سکتے ہیں اور بچا بھی سکتے ہیں۔ کچھ دنوں پہلے ایک حادثہ دیکھ ایک 19سال کا نوجوان حافظ قرآن اور چار بہنوں کا ایک ہی بھائی ٹرک کے نیچے آ گیا تھا وجہ اس کو تھوڑی جلدی تھی اور کار والے نے سائیڈ مار گی اس کو تیز رفتاری سے جس کی وجہ سے وہ گرا اور پچھئے آتے ہوئے ٹرک کے نچئے آ گیا ۔ سر اس کا مکمل طور پر کچل گیا تھا 2 سو کے قریب لوگ وہاں جمع تھے یہ سب دیکھ رہے تھے ایمبولینس آئی اور لاش کو وہاں سے لے گئی، میں وہاں ٹھہرا یہ سب دیکھ رہا تھا ٹھیک دس منٹ بعد اسی جگہ پر میں نے ایک اور نوجوان کو موٹر سائیکل بنا پچھئے دیکھئےکراس کرتے ہوئے دیکھ اور آگے فوت ہونے والے نوجوان کے گھر چلا گیا جو ساتھ ہی تھا یہ سوچتے ہوئے کہ ہم کیسے سیکھ سکتے ہیںکچھ آگے فوت ہو جانے والے نوجوان کا گھر تھا ، وہاں پہنچ کر قیامت صغری کا منظر دیکھنے کو مل رہا تھا، آتا بھی کیوں نا ، چار بہنوں کا ایک بھائی تھا ، بوڑھے ماں باپ کا سہارا آنکھوں کا تارا تھا ، پورا محلہ جمع ہو گیا تھا ، گھر سے زور زور سے رونے کی آواز آ رہی تھی ، آگے روز اس کے باپ نے بیرون ملک جانا تھا لیکن قسمت کیا فصیلہ کر رہی تھی یہ کون جانتا تھا ، ایمبولینس گیٹ کے سامنے روکی تھی چادر میں لپٹی ہوئی لاش باہر نکالی جا رہی تھی ، ماں پہلے ہی صدمے سے قومے میں چلی گئ تھی اور بہنوں کی حالت کچھ الگ نہیں تھی۔ باپ کی حالت بیان کرنے سے باہر اس وقت کا درد شاید ہی کوئی بیان کر سکے، وہ ہار گیا تھا جیسے زندگی کے ان آخری سالوں میں ایک شکستہ حال اندر سے روتا چیختا ہوا لیکن بلکل بے جان سا نظر آ رہا تھا ، ایک نا ختم ہونا والا زندگی کا سوگ شامل ہو گیا تھا جس نے اس کو قبر تک لے جانا تھاان کی اب زندگی کیسے گزر رہی ہے یہ سننے لگ جاؤں تو شاید کوئی روڈ پر نہ جائے پھر کبھی ، کہ حادثے کس طرح اپنا گہرا نقوش چھوڑ جاتے ہیںقسمت کے فصیلہ لکھ دیا گئے ہیں ہم جانتے ہیں لیکن اللہ پاک نے احتیاط بھی ہمیں بتا دی ہیں بلکل ایسے ہی جیسے اللہ پاک نے حضرت آدم اور اماں حوا کو بتا دیا تھا کہ اس درخت کا پھل نہ کھانا ، حادثے ہماری زندگی کا حصہ ہیں ، ایک حادثہ کے پچھئے کئی ساری زندگیاں ہوتی ہیں ، کہانی بتانا کا مقصد بھی یہی تھا کہ آپ سب کو اندازہ ہو کہ حادثے کے بعد گھر والوں کو تا عمر کا غم ملتا ہے تو اتنا احتیاط کریں گے کہ حادثے کافی حد تک کم ہو جائیں، آپ کی زندگی پر آپ سے زیادہ آپ سے پیار کرنے والوں کا حق ہے سو ان کا خیال رکھیں ان کو زندگی بھر کے غم سے محفوظ رکھیں تھوڑی سی احتیاط کر کے ۔ اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو امین ثم آمین

for more or contact us on facebook:

Leave a Comment